زیارتِ عاشورا
علقمہ نے امام محمد باقرؑ سے روایت کی ہے۔ یہ زیارت روضے پر یا دور سے، روزِ عاشور اور ہر دن پڑھی جا سکتی ہے۔ کہیں:
اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا اَبَا عَبْدِ اللهِ
سلام ہو آپ پر، اے ابا عبد اللہ۔
اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا ابْنَ رَسُوْلِ اللهِ
سلام ہو آپ پر، اے رسولِ خدا کے فرزند۔
اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا خِيَرَةَ اللهِ وَابْنَ خِيَرَتِهٖ
سلام ہو آپ پر، اے اللہ کے برگزیدہ اور اس کے برگزیدہ کے فرزند۔
اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ يَابْنَ اَمِيْرِ الْمُؤْمِنِيْنَ
سلام ہو آپ پر، اے امیر المومنین کے فرزند
وَابْنَ سَيِّدِ الْوَصِيِّيْنَ
اور سید الوصیین کے فرزند۔
اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ يَابْنَ فَاطِمَةَ سَيِّدَةِ نِسَآءِ الْعَالَمِيْنَ
سلام ہو آپ پر، اے فاطمہ کے فرزند جو تمام جہانوں کی عورتوں کی سردار ہیں۔
اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا ثَارَ اللهِ وَابْنَ ثَارِهٖ وَالْوِتْرَ الْمَوْتُوْرَ
سلام ہو آپ پر، اے وہ جن کے خون کا بدلہ اللہ لے گا اور اس کے فرزند جن کے خون کا بدلہ اللہ لے گا، اے تنہا چھوڑے گئے مظلوم۔
اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ وَعَلَى الْاَرْوَاحِ الَّتِيْ حَلَّتْ بِفِنَآئِكَ
سلام ہو آپ پر اور ان روحوں پر جو آپ کے آستانے پر اتریں۔
عَلَيْكُمْ مِنِّي جَمِيْعًا سَلَامُ اللهِ اَبَدًا
آپ سب پر میری طرف سے ہمیشہ اللہ کا سلام ہو،
مَا بَقِيْتُ وَبَقِيَ اللَّيْلُ وَالنَّهَارُ
جب تک میں باقی ہوں اور رات اور دن باقی ہیں۔
يَا اَبَا عَبْدِ اللهِ
اے ابا عبد اللہ!
لَقَدْ عَظُمَتِ الرَّزِيَّةُ وَجَلَّتْ
یقیناً مصیبت بہت بڑی اور بہت سخت ہے،
وَعَظُمَتِ الْمُصِيْبَةُ بِكَ عَلَيْنَا
اور آپ کا سانحہ ہم پر
وَعَلٰى جَمِيْعِ اَهْلِ الْاِسْلَامِ
اور تمام اہلِ اسلام پر بہت عظیم ہے؛
وَجَلَّتْ وَعَظُمَتْ مُصِيْبَتُكَ فِي السَّمٰوَاتِ
اور آسمانوں میں بھی آپ کی مصیبت بڑی اور سخت ہے،
عَلٰى جَمِيْعِ اَهْلِ السَّمَاوَاتِ
تمام اہلِ آسمان پر۔
فَلَعَنَ اللهُ اُمَّةً اَسَّسَتْ اَسَاسَ الظُّلْمِ وَالْجَوْرِ عَلَيْكُمْ اَهْلَ الْبَيْتِ
پس اللہ لعنت کرے اس گروہ پر جس نے آپ اہلِ بیت پر ظلم و جور کی بنیاد رکھی؛
وَلَعَنَ اللهُ اُمَّةً دَفَعَتْكُمْ عَنْ مَقَامِكُمْ
اور اللہ لعنت کرے اس گروہ پر جس نے آپ کو آپ کے مقام سے ہٹایا
وَاَزَالَتْكُمْ عَنْ مَرَاتِبِكُمُ الَّتِيْ رَتَّبَكُمُ اللهُ فِيْهَا
اور آپ کو ان مراتب سے دور کیا جن پر اللہ نے آپ کو فائز کیا تھا؛
وَلَعَنَ اللهُ اُمَّةً قَتَلَتْكُمْ
اور اللہ لعنت کرے اس گروہ پر جس نے آپ کو قتل کیا؛
وَلَعَنَ اللهُ الْمُمَهِّدِيْنَ لَهُمْ
اور اللہ لعنت کرے ان پر جنہوں نے ان کے لیے راستہ ہموار کیا
بِالتَّمْكِيْنِ مِنْ قِتَالِكُمْ
آپ سے جنگ کی قدرت فراہم کر کے۔
بَرِئْتُ اِلَى اللهِ وَاِلَيْكُمْ مِنْهُمْ
میں اللہ کے حضور اور آپ کے حضور ان سے بیزاری اختیار کرتا ہوں،
وَمِنْ اَشْيَاعِهِمْ وَاَتْبَاعِهِمْ وَاَوْلِيَآئِهِمْ
اور ان کے پیروکاروں، ان کے تابعداروں اور ان کے دوستوں سے بھی۔
يَا اَبَا عَبْدِ اللهِ
اے ابا عبد اللہ!
اِنِّيْ سِلْمٌ لِمَنْ سَالَمَكُمْ
جو آپ سے صلح رکھے میں اس سے صلح رکھتا ہوں
وَحَرْبٌ لِمَنْ حَارَبَكُمْ اِلٰى يَوْمِ الْقِيَامَةِ
اور جو آپ سے جنگ کرے میں اس سے قیامت کے دن تک جنگ میں ہوں۔
وَلَعَنَ اللهُ آلَ زِيَادٍ وَآلَ مَرْوَانَ
اور اللہ لعنت کرے آلِ زیاد اور آلِ مروان پر؛
وَلَعَنَ اللهُ بَنِيْ اُمَيَّةَ قَاطِبَةً
اور اللہ لعنت کرے بنی امیہ پر، سب کے سب پر؛
وَلَعَنَ اللهُ ابْنَ مَرْجَانَةَ
اور اللہ لعنت کرے ابنِ مرجانہ پر؛
وَلَعَنَ اللهُ عُمَرَ بْنَ سَعْدٍ
اور اللہ لعنت کرے عمر بن سعد پر؛
وَلَعَنَ اللهُ شِمْرًا
اور اللہ لعنت کرے شمر پر؛
وَلَعَنَ اللهُ اُمَّةً اَسْرَجَتْ
اور اللہ لعنت کرے اس گروہ پر جس نے (گھوڑوں پر) زینیں کسیں،
وَاَلْجَمَتْ وَتَنَقَّبَتْ لِقِتَالِكَ
لگامیں ڈالیں اور آپ سے جنگ کے لیے نقاب اوڑھے۔
بِاَبِيْ اَنْتَ وَاُمِّي لَقَدْ عَظُمَ مُصَابِيْ بِكَ
میرے ماں باپ آپ پر قربان؛ آپ کے غم میں میری مصیبت بہت بڑی ہے۔
فَاَسْئَلُ اللهَ الَّذِيْ اَكْرَمَ مَقَامَكَ
پس میں اللہ سے سوال کرتا ہوں جس نے آپ کے مقام کو عزت دی
وَاَكْرَمَنِيْ بِكَ اَنْ يَرْزُقَنِيْ طَلَبَ ثَارِكَ
اور آپ کے ذریعے مجھے عزت دی، کہ مجھے آپ کے خون کا بدلہ لینے کی توفیق دے
مَعَ اِمَامٍ مَنْصُوْرٍ مِنْ اَهْلِ بَيْتِ مُحَمَّدٍ
ایک ایسے امامِ منصور کے ساتھ جو اہلِ بیتِ محمد میں سے ہیں،
صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَآلِهٖ
اللہ ان پر اور ان کی آل پر رحمت نازل فرمائے۔
اَللّٰهُمَّ اجْعَلْنِيْ عِنْدَكَ وَجِيْهًا بِالْحُسَيْنِ
اے اللہ! مجھے حسین کے وسیلے سے اپنے نزدیک آبرومند قرار دے،
عَلَيْهِ السَّلَامُ فِيْ الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ
ان پر سلام ہو، دنیا اور آخرت میں۔
يَا اَبَا عَبْدِ اللهِ
اے ابا عبد اللہ!
اِنِّي اَتَقَرَّبُ اِلَى اللهِ
میں قربت حاصل کرتا ہوں اللہ سے،
وَاِلٰى رَسُوْلِهٖ وَاِلٰى اَمِيْرِ الْمُؤْمِنِيْنَ
اس کے رسول سے، امیر المومنین سے،
وَاِلٰى فَاطِمَةَ وَاِلَى الْحَسَنِ وَاِلَيْكَ
فاطمہ سے، حسن سے اور آپ سے،
بِمُوَالَاتِكَ وَبِالْبَرَآئَةِ مِمَّنْ قَاتَلَكَ وَنَصَبَ لَكَ الْحَرْبَ
آپ کی محبت کے ذریعے اور اس سے بیزاری کے ذریعے جس نے آپ سے جنگ کی اور آپ کے خلاف لڑائی برپا کی،
وَبِالْبَرَآئَةِ مِمَّنْ اَسَّسَ اَسَاسَ الظُّلْمِ وَالْجَوْرِ عَلَيْكُمْ
اور اس سے بیزاری کے ذریعے جس نے آپ پر ظلم و جور کی بنیاد رکھی؛
وَاَبْرَأُ اِلَى اللهِ وَاِلٰى رَسُوْلِهٖ
اور میں اللہ اور اس کے رسول کے حضور بیزاری اختیار کرتا ہوں
مِمَّنْ اَسَّسَ اَسَاسَ ذٰلِكَ وَبَنٰى عَلَيْهِ بُنْيَانَهٗ
اس سے جس نے اس کی بنیاد رکھی، اس پر عمارت کھڑی کی
وَجَرٰى فِيْ ظُلْمِهٖ وَجَوْرِهٖ عَلَيْكُمْ وَعَلٰى اَشْيَاعِكُمْ
اور آپ پر اور آپ کے پیروکاروں پر اپنے ظلم و جور میں آگے بڑھا۔
بَرِئْتُ اِلَى اللهِ وَاِلَيْكُمْ مِنْهُمْ
میں اللہ کے حضور اور آپ کے حضور ان سے بیزار ہوں،
وَاَتَقَرَّبُ اِلَى اللهِ ثُمَّ اِلَيْكُمْ
اور میں اللہ سے پھر آپ سے قربت حاصل کرتا ہوں
بِمُوَالَاتِكُمْ وَمُوَالَاةِ وَلِيِّكُمْ
آپ کی محبت اور آپ کے ولی کی محبت کے ذریعے،
وَبِالْبَرَآئَةِ مِنْ اَعْدَائِكُمْ
آپ کے دشمنوں سے بیزاری کے ذریعے
وَالنَّاصِبِيْنَ لَكُمُ الْحَرْبَ
اور ان سے جنہوں نے آپ کے خلاف جنگ برپا کی،
وَبِالْبَرَائَةِ مِنْ اَشْيَاعِهِمْ وَاَتْبَاعِهِمْ
اور ان کے پیروکاروں اور تابعداروں سے بیزاری کے ذریعے۔
اِنِّي سِلْمٌ لِمَنْ سَالَمَكُمْ
جو آپ سے صلح رکھے میں اس سے صلح رکھتا ہوں،
وَحَرْبٌ لِمَنْ حَارَبَكُمْ
اور جو آپ سے جنگ کرے میں اس سے جنگ میں ہوں،
وَوَلِيٌّ لِمَنْ وَالَاكُمْ
جو آپ سے محبت رکھے میں اس کا دوست ہوں
وَعَدُوٌّ لِمَنْ عَادَاكُمْ
اور جو آپ سے دشمنی رکھے میں اس کا دشمن ہوں۔
فَاَسْئَلُ اللهَ الَّذِيْ اَكْرَمَنِيْ بِمَعْرِفَتِكُمْ
پس میں اللہ سے سوال کرتا ہوں جس نے مجھے آپ کی معرفت
وَمَعْرِفَةِ اَوْلِيَآئِكُمْ
اور آپ کے دوستوں کی معرفت سے نوازا،
وَرَزَقَنِيَ الْبَرَآئَةَ مِنْ اَعْدَآئِكُمْ
اور آپ کے دشمنوں سے بیزاری عطا کی،
اَنْ يَجْعَلَنِيْ مَعَكُمْ فِيْ الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ
کہ مجھے دنیا اور آخرت میں آپ کے ساتھ رکھے،
وَاَنْ يُثَبِّتَ لِي عِنْدَكُمْ قَدَمَ صِدْقٍ
اور آپ کے پاس میرے لیے سچائی کا قدم ثابت رکھے
فِيْ الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ
دنیا اور آخرت میں۔
وَاَسْئَلُهُ اَنْ يُبَلِّغَنِي الْمَقَامَ الْمَحْمُوْدَ لَكُمْ عِنْدَ اللهِ
اور میں اس سے سوال کرتا ہوں کہ مجھے اس مقامِ محمود تک پہنچائے جو اللہ کے ہاں آپ کا ہے،
وَاَنْ يَرْزُقَنِيْ طَلَبَ ثَارِيْ
اور مجھے اپنے خون کا بدلہ لینے کی توفیق دے
مَعَ اِمَامٍ هُدًى ظَاهِرٍ نَاطِقٍ بِالْحَقِّ مِنْكُمْ
آپ (اہلِ بیت) میں سے ایک ہادی، ظاہر اور حق بولنے والے امام کے ساتھ۔
وَاَسْئَلُ اللهَ بِحَقِّكُمْ وَبِالشَّاْنِ الَّذِيْ لَكُمْ عِنْدَهٗ
اور میں اللہ سے آپ کے حق اور اس شان کے واسطے سے سوال کرتا ہوں جو اس کے ہاں آپ کی ہے،
اَنْ يُعْطِيَنِيْ بِمُصَابِيْ بِكُمْ
کہ آپ کے غم میں میری مصیبت کے بدلے مجھے
اَفْضَلَ مَا يُعْطِيْ مُصَابًا بِمُصِيْبَتِهٖ
وہ بہترین چیز عطا کرے جو کسی مصیبت زدہ کو اس کی مصیبت پر دیتا ہے —
مُصِيْبَةً مَا اَعْظَمَهَا
وہ کیسی عظیم مصیبت ہے،
وَاَعْظَمَ رَزِيَّتَهَا فِيْ الْاِسْلَامِ
اور اسلام میں اس کا سانحہ کتنا بڑا ہے
وَفِيْ جَمِيْعِ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضِ
اور تمام آسمانوں اور زمین میں!
اَللّٰهُمَّ اجْعَلْنِيْ فِيْ مَقَامِيْ هٰذَا مِمَّنْ
اے اللہ! مجھے اپنے اس مقام پر ان لوگوں میں سے قرار دے
تَنَالُهٗ مِنْكَ صَلَوَاتٌ وَرَحْمَةٌ وَمَغْفِرَةٌ
جنہیں تیری طرف سے رحمتیں، مہربانی اور مغفرت نصیب ہوتی ہیں۔
اَللّٰهُمَّ اجْعَلْ مَحْيَايَ مَحْيَا مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ
اے اللہ! میری زندگی کو محمد و آلِ محمد کی زندگی
وَمَمَاتِيْ مَمَاتَ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ
اور میری موت کو محمد و آلِ محمد کی موت قرار دے۔
اَللّٰهُمَّ اِنَّ هٰذَا يَوْمٌ تَبَرَّكَتْ بِهٖ بَنُوْ اُمَيَّةَ
اے اللہ! یہ وہ دن ہے جسے بنی امیہ نے برکت کا دن سمجھا،
وَابْنُ آكِلَةِ الْاَكْبَادِ
اور جگر خوار عورت کے بیٹے نے بھی،
اللَّعِيْنُ ابْنُ اللَّعِيْنِ عَلٰى لِسَانِكَ
جو تیری زبان پر اور تیرے نبی کی زبان پر لعنتی ابنِ لعنتی ہے،
وَلِسَانِ نَبِيِّكَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَآلِهٖ
اللہ ان (نبی) پر اور ان کی آل پر رحمت نازل فرمائے،
فِيْ كُلِّ مَوْطِنٍ وَمَوْقِفٍ
ہر اس جگہ اور ہر اس مقام پر
وَقَفَ فِيْهِ نَبِيُّكَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَآلِهٖ
جہاں تیرے نبی ٹھہرے، اللہ ان پر اور ان کی آل پر رحمت نازل فرمائے۔
اَللّٰهُمَّ الْعَنْ اَبَا سُفْيَانَ وَمُعَاوِيَةَ
اے اللہ! ابو سفیان، معاویہ
وَيَزِيْدَ بْنَ مُعَاوِيَةَ
اور یزید بن معاویہ پر لعنت کر؛
عَلَيْهِمْ مِنْكَ اللَّعْنَةُ اَبَدَ الْآبِدِيْنَ
ان پر تیری طرف سے ہمیشہ ہمیشہ لعنت ہو۔
وَهٰذَا يَوْمٌ فَرِحَتْ بِهٖ آلُ زِيَادٍ وَآلُ مَرْوَانَ
اور یہ وہ دن ہے جس میں آلِ زیاد اور آلِ مروان نے خوشی منائی
بِقَتْلِهِمُ الْحُسَيْنَ صَلَوَاتُ اللهِ عَلَيْهِ
حسین کو قتل کرنے پر، ان پر اللہ کی رحمتیں ہوں۔
اَللّٰهُمَّ فَضَاعِفْ عَلَيْهِمُ اللَّعْنَ مِنْكَ وَالْعَذَابَ الْاَلِيْمَ
اے اللہ! ان پر اپنی لعنت اور دردناک عذاب کو دوگنا کر دے۔
اَللّٰهُمَّ اِنِّيْ اَتَقَرَّبُ اِلَيْكَ فِيْ هٰذَا الْيَوْمِ
اے اللہ! میں اس دن تیری قربت چاہتا ہوں،
وَفِيْ مَوْقِفِيْ هٰذَا وَاَيَّامِ حَيَاتِيْ
اپنے اس مقام پر اور اپنی زندگی کے تمام دنوں میں،
بِالْبَرَآئَةِ مِنْهُمْ وَاللَّعْنَةِ عَلَيْهِمْ
ان سے بیزاری اور ان پر لعنت کے ذریعے،
وَبِالْمُوَالَاةِ لِنَبِيِّكَ وَآلِ نَبِيِّكَ
اور تیرے نبی اور تیرے نبی کی آل کی محبت کے ذریعے،
عَلَيْهِ وَعَلَيْهِمُ السَّلَامُ
ان پر اور ان سب پر سلام ہو۔
پھر سو (۱۰۰) مرتبہ کہیں:
اَللّٰهُمَّ الْعَنْ اَوَّلَ ظَالِمٍ ظَلَمَ حَقَّ مُحَمَّدٍ
اے اللہ! لعنت کر اس پہلے ظالم پر جس نے محمد
وَآلِ مُحَمَّدٍ وَآخِرَ تَابِعٍ لَهٗ عَلٰى ذٰلِكَ
اور آلِ محمد کا حق غصب کیا، اور اس کے آخری پیروکار پر جو اس میں اس کے پیچھے چلا۔
اَللّٰهُمَّ الْعَنِ الْعِصَابَةَ الَّتِيْ جَاهَدَتِ الْحُسَيْنَ
اے اللہ! لعنت کر اس گروہ پر جس نے حسین سے جنگ کی،
وَشَايَعَتْ وَبَايَعَتْ وَتَابَعَتْ عَلٰى قَتْلِهٖ
اور ان کے قتل میں ساتھ دیا، بیعت کی اور پیروی کی۔
اَللّٰهُمَّ الْعَنْهُمْ جَمِيْعًا
اے اللہ! ان سب پر لعنت کر۔
پھر سو (۱۰۰) مرتبہ کہیں:
اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا اَبَا عَبْدِ اللهِ
سلام ہو آپ پر، اے ابا عبد اللہ،
وَعَلَى الْاَرْوَاحِ الَّتِيْ حَلَّتْ بِفِنَآئِكَ
اور ان روحوں پر جو آپ کے آستانے پر اتریں۔
عَلَيْكَ مِنّي سَلَامُ اللهِ اَبَدًا
آپ پر میری طرف سے ہمیشہ اللہ کا سلام ہو،
مَا بَقِيْتُ وَبَقِيَ اللَّيْلُ وَالنَّهَارُ
جب تک میں باقی ہوں اور رات اور دن باقی ہیں؛
وَلَا جَعَلَهُ اللهُ آخِرَ الْعَهْدِ مِنِّي لِزِيَارَتِكُمْ
اور اللہ اسے آپ کی زیارت کا میرا آخری موقع قرار نہ دے۔
اَلسَّلَامُ عَلَى الْحُسَيْنِ
سلام ہو حسین پر،
وَعَلٰى عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ
اور علی بن الحسین پر،
وَعَلٰى اَوْلَادِ الْحُسَيْنِ
اور حسین کی اولاد پر،
وَعَلٰى اَصْحَابِ الْحُسَيْنِ
اور حسین کے اصحاب پر۔
پھر کہیں:
اَللّٰهُمَّ خُصَّ اَنْتَ اَوَّلَ ظَالِمٍ بِاللَّعْنِ مِنِّي
اے اللہ! میری لعنت کے لیے پہلے ظالم کو خاص فرما،
وَابْدَأْ بِهٖ اَوَّلًا
اور پہلے اسی سے شروع کر،
ثُمَّ الثَّانِيَ وَالثَّالِثَ وَالرَّابِعَ
پھر دوسرے، تیسرے اور چوتھے پر۔
اَللّٰهُمَّ الْعَنْ يَزِيْدَ خَامِسًا
اے اللہ! پانچویں یزید پر لعنت کر،
وَالْعَنْ عُبَيْدَ اللهِ بْنَ زِيَادٍ وَابْنَ مَرْجَانَةَ
اور عبید اللہ بن زیاد، ابنِ مرجانہ،
وَعُمَرَ بْنَ سَعْدٍ وَشِمْرًا
عمر بن سعد اور شمر پر لعنت کر،
وَآلَ اَبِيْ سُفْيَانَ وَآلَ زِيَادٍ
اور آلِ ابی سفیان، آلِ زیاد
وَآلَ مَرْوَانَ اِلٰى يَوْمِ الْقِيَامَةِ
اور آلِ مروان پر قیامت کے دن تک۔
پھر سجدے میں جا کر کہیں:
اَللّٰهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ حَمْدَ الشَّاكِرِيْنَ لَكَ عَلٰى مُصَابِهِمْ
اے اللہ! تیرے ہی لیے حمد ہے، ان کی مصیبت پر تیرا شکر کرنے والوں کی حمد۔
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ عَلٰى عَظِيْمِ رَزِيَّتِيْ
اللہ کا شکر ہے اپنے عظیم غم پر۔
اَللّٰهُمَّ ارْزُقْنِيْ شَفَاعَةَ الْحُسَيْنِ يَوْمَ الْوُرُوْدِ
اے اللہ! مجھے ورود (حاضری) کے دن حسین کی شفاعت نصیب فرما،
وَثَبِّتْ لِيْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَكَ
اور اپنے پاس میرے لیے سچائی کا قدم ثابت رکھ
مَعَ الْحُسَيْنِ وَاَصْحَابِ الْحُسَيْنِ الَّذِيْنَ
حسین اور حسین کے ان اصحاب کے ساتھ
بَذَلُوْا مُهَجَهُمْ دُوْنَ الْحُسَيْنِ عَلَيْهِ السَّلَامُ
جنہوں نے حسین پر اپنی جانیں قربان کر دیں، ان پر سلام ہو۔