زیارتِ امین اللہ
امام زین العابدینؑ امیر المومنینؑ کی قبر کے پاس کھڑے ہوئے، گریہ کیا اور فرمایا:
اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا اَمِيْنَ اللهِ فِىْ اَرْضِهٖ
سلام ہو آپ پر، اے اللہ کی زمین میں اس کے امین
وَحُجَّتَهٗ عَلٰى عِبَادِهٖ
اور اس کے بندوں پر اس کی حجت۔
اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا اَمِيْرَ الْمُؤْمِنِيْنَ
سلام ہو آپ پر، اے امیر المومنین۔
اَشْهَدُ اَنَّكَ جَاهَدْتَ فِى اللهِ حَقَّ جِهَادِهٖ
میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ نے اللہ کی راہ میں ایسا جہاد کیا جیسا اس کا حق تھا،
وَعَمِلْتَ بِكِتَابِهٖ وَاتَّبَعْتَ سُنَنَ نَبِيِّهٖ
اس کی کتاب پر عمل کیا اور اس کے نبی کی سنتوں کی پیروی کی،
صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ حَتّٰى دَعَاكَ اللهُ اِلٰى جِوَارِهٖ
اللہ ان پر اور ان کی آل پر رحمت نازل فرمائے؛ یہاں تک کہ اللہ نے آپ کو اپنے جوار میں بلا لیا
فَقَبَضَكَ اِلَيْهِ بِاخْتِيَارِهٖ وَاَلْزَمَ اَعْدَآئَكَ
اور اپنے اختیار سے آپ کو اپنی طرف اٹھا لیا، اور آپ کے دشمنوں پر
الْحُجَّةَ مَعَ مَا لَكَ مِنَ الْحُجَجِ الْبَالِغَةِ عَلٰى جَمِيْعِ خَلْقِهٖ
حجت لازم کر دی، اس کے علاوہ جو کامل حجتیں آپ کی اس کی ساری مخلوق پر ہیں۔
اَللّٰهُمَّ فَاجْعَلْ نَفْسِىْ مُطْمَئِنَّةً بِقَدَرِكَ
اے اللہ! میرے نفس کو اپنی تقدیر پر مطمئن،
رَاضِيَةً بِقَضَآئِكَ مُوْلَعَةً بِذِكْرِكَ وَدُعَآئِكَ
اپنے فیصلے پر راضی، اپنے ذکر اور اپنی دعا کا شیدائی،
مُحِبَّةً لِصَفْوَةِ اَوْلِيَآئِكَ
اپنے اولیا میں سے برگزیدہ لوگوں سے محبت کرنے والا،
مَحْبُوْبَةً فِىْ اَرْضِكَ وَسَمَآئِكَ
اپنی زمین اور اپنے آسمان میں محبوب،
صَابِرَةً عَلٰى نُزُوْلِ بَلَآئِكَ
اپنی آزمائش کے نزول پر صابر،
شَاكِرَةً لِفَوَاضِلِ نَعْمَآئِكَ
اپنی بڑی بڑی نعمتوں پر شکر گزار،
ذَاكِرَةً لِسَوَابِغِ اٰلَآئِكَ
اپنی کامل عنایتوں کو یاد رکھنے والا،
مُشْتَاقَةً اِلىٰ فَرْحَةِ لِقَآئِكَ
اپنی ملاقات کی خوشی کا مشتاق،
مُتَزَوِّدَةً التَّقْوٰى لِيَوْمِ جَزَائِكَ
اپنی جزا کے دن کے لیے تقویٰ کا زادِ راہ لینے والا،
مُسْتَنَّةً بِسُنَنِ اَوْلِيَآئِكَ
اپنے اولیا کے طریقوں پر چلنے والا،
مُفَارِقَةً لِاَخْلَاقِ اَعْدَآئِكَ
اپنے دشمنوں کے اخلاق سے جدا رہنے والا،
مَشْغُوْلَةً عَنِ الدُّنْيَا بِحَمْدِكَ وَثَنَآئِكَ
اور دنیا سے ہٹ کر اپنی حمد و ثنا میں مشغول رہنے والا بنا دے۔
پھر اپنا رخسار قبر پر رکھا اور فرمایا:
اَللّٰهُمَّ اِنَّ قُلُوْبَ الْمُخْبِتِيْنَ اِلَيْكَ وَالِهَةٌ
اے اللہ! تیرے حضور عاجزی کرنے والوں کے دل تیرے شیدا ہیں،
وَسُبُلَ الرَّاغِبِيْنَ اِلَيْكَ شَارِعَةٌ
تیری طرف رغبت رکھنے والوں کے راستے کھلے ہیں،
وَاَعْلَامَ الْقَاصِدِيْنَ اِلَيْكَ وَاضِحَةٌ
تیری طرف آنے والوں کے نشان واضح ہیں،
وَاَفْئِدَةَ الْعَارِفِيْنَ مِنْكَ فَازِعَةٌ
تجھے پہچاننے والوں کے دل تیری پناہ ڈھونڈتے ہیں،
وَاَصْوَاتَ الدَّاعِيْنَ اِلَيْكَ صَاعِدَةٌ
تجھے پکارنے والوں کی آوازیں تیری طرف بلند ہوتی ہیں،
وَاَبْوَابَ الْاِجَابَةِ لَهُمْ مُفَتَّحَةٌ
قبولیت کے دروازے ان کے لیے کھلے ہیں،
وَدَعْوَةَ مَنْ نَاجَاكَ مُسْتَجَابَةٌ
جس نے تجھ سے مناجات کی اس کی دعا قبول ہے،
وَتَوْبَةَ مَنْ اَنَابَ اِلَيْكَ مَقْبُوْلَةٌ
جس نے تیری طرف رجوع کیا اس کی توبہ مقبول ہے،
وَعَبْرَةَ مَنْ بَكٰى مِنْ خَوْفِكَ مَرْحُوْمَةٌ
جو تیرے خوف سے رویا اس کے آنسو مستحقِ رحمت ہیں،
وَالْاِغَاثَةَ لِمَنِ اسْتَغَاثَ بِكَ مَوْجُوْدَةٌ
جس نے تجھ سے فریاد کی اس کے لیے فریاد رسی موجود ہے،
وَالْاِعَانَةَ لِمَنِ اسْتَعَانَ بِكَ مَبْذُوْلَةٌ
جس نے تجھ سے مدد مانگی اس کے لیے مدد عطا ہے،
وَعِدَاتِكَ لِعِبَادِكَ مُنْجَزَةٌ
تیرے وعدے تیرے بندوں کے لیے پورے ہیں،
وَزَلَلَ مَنِ اسْتَقَالَكَ مُقَالَةٌ
جس نے تجھ سے معافی مانگی اس کی لغزشیں معاف ہیں،
وَاَعْمَالَ الْعَامِلِيْنَ لَدَيْكَ مَحْفُوْظَةٌ
عمل کرنے والوں کے اعمال تیرے پاس محفوظ ہیں،
وَاَرْزَاقَكَ اِلَى الْخَلَآئِقِ مِنْ لَدُنْكَ نَازِلَةٌ
تیرے رزق تیری طرف سے مخلوقات کو اترتے ہیں،
وَعَوَآئِدَ الْمَزِيْدِ اِلَيْهِمْ وَاصِلَةٌ
زیادتی (اضافی عطا) کے انعامات ان تک پہنچتے ہیں،
وَذُنُوْبَ الْمُسْتَغْفِرِيْنَ مَغْفُوْرَةٌ
مغفرت مانگنے والوں کے گناہ بخشے جاتے ہیں،
وَحَوَآئِجَ خَلْقِكَ عِنْدَكَ مَقْضِيَّةٌ
تیری مخلوق کی حاجتیں تیرے ہاں پوری ہوتی ہیں،
وَجَوَآئِزَ السَّآئِلِيْنَ عِنْدَكَ مُوَفَّرَةٌ
مانگنے والوں کے انعامات تیرے ہاں وافر ہیں،
وَعَوَآئِدَ الْمَزِيْدِ مُتَوَاتِرَةٌ
زیادتی کے انعامات پے در پے ہیں،
وَمَوَائِدَ الْمُسْتَطْعِمِيْنَ مُعَدَّةٌ
کھانا مانگنے والوں کے دسترخوان تیار ہیں،
وَمَنَاهِلَ الظِّمَآءِ مُتْرَعَةٌ
اور پیاسوں کے چشمے لبریز ہیں۔
اَللّٰهُمَّ فَاسْتَجِبْ دُعَائِىْ وَاقْبَلْ ثَنَآئِىْ
اے اللہ! میری دعا قبول فرما اور میری ثنا کو قبول کر،
وَاجْمَعْ بَيْنِىْ وَبَيْنَ اَوْلِيَآئِىْ بِحَقِّ مُحَمَّدٍ وَعَلِىٍّ وَفَاطِمَةَ
اور مجھے میرے اولیا کے ساتھ جمع فرما، محمد، علی، فاطمہ،
وَالْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ اِنَّكَ وَلِىُّ نَعْمَآئِىْ
حسن اور حسین کے حق کے واسطے؛ بے شک تو ہی میری نعمتوں کا مالک ہے،
وَمُنْتَهٰى مُنَاىَ وَغَايَةُ رَجَآئِىْ
میری آرزوؤں کی انتہا اور میری امید کی منزل ہے،
فِىْ مُنْقَلَبِىْ وَمَثْوَاىَ
میرے لوٹنے میں اور میرے ٹھکانے میں۔
کامل الزیارات میں یہ زیارت ان الفاظ پر ختم ہوتی ہے:
اَنْتَ اِلٰهِىْ وَسَيِّدِىْ وَمَوْلَاىَ
تو ہی میرا معبود، میرا آقا اور میرا مولا ہے۔
اغْفِرْ لِاَوْلِيَآئِنَا وَكُفَّ عَنَّا اَعْدَآئَنَا
ہمارے دوستوں کو بخش دے، ہمارے دشمنوں کو ہم سے روک دے،
وَاشْغَلْهُمْ عَنْ اَذَانَا
انہیں ہمیں ستانے سے باز رکھ،
وَاَظْهِرْ كَلِمَةَ الْحَقِّ
حق کے کلمے کو غالب کر
وَاجْعَلْهَا الْعُلْيَا وَاَدْحِضْ كَلِمَةَ الْبَاطِلِ
اور اسے بلند فرما، اور باطل کے کلمے کو مٹا دے
وَاجْعَلْهَا السُّفْلٰى اِنَّكَ عَلٰى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيْرٌ
اور اسے پست کر دے؛ بے شک تو ہر چیز پر قادر ہے۔