زیارتِ ائمۂ بقیعؑ
اذنِ دخول
آدابِ زیارت — غسل، طہارت، پاک صاف لباس اور خوشبو — کا خیال رکھیں اور داخلے کی اجازت طلب کرتے ہوئے کہیں:
يَا مَوَالِيَّ يَا أَبْنَاءَ رَسُولِ اللّٰهِ
اے میرے مولاؤ، اے رسولِ خدا کے فرزندو!
عَبْدُكُمْ وَابْنُ أَمَتِكُمُ الذَّلِيلُ بَيْنَ أَيْدِيكُمْ
آپ کا غلام اور آپ کی کنیز کا بیٹا، جو آپ کے سامنے عاجز ہے،
وَالْمُضْعِفُ فِي عُلُوِّ قَدْرِكُمْ
آپ کی بلندیِ قدر کے آگے ناتواں ہے
وَالْمُعْتَرِفُ بِحَقِّكُمْ
اور آپ کے حق کا معترف ہے،
جَاءَكُمْ مُسْتَجِيراً بِكُمْ
آپ کی پناہ مانگتا ہوا آیا ہے،
قَاصِداً إِلَى حَرَمِكُمْ
آپ کے حرم کا قصد کیے ہوئے،
مُتَقَرِّباً إِلَى مَقَامِكُمْ
آپ کے مقام کا قرب چاہتے ہوئے،
مُتَوَسِّلاً إِلَى اللّٰهِ تَعَالَى بِكُمْ
آپ کے وسیلے سے اللہ تعالیٰ کی طرف توسل کرتے ہوئے۔
أَأَدْخُلُ يَا مَوَالِيَّ
کیا میں داخل ہو جاؤں، اے میرے مولاؤ؟
أَأَدْخُلُ يَا أَوْلِيَاءَ اللّٰهِ
کیا میں داخل ہو جاؤں، اے اللہ کے اولیا؟
أَأَدْخُلُ يَا مَلَائِكَةَ اللّٰهِ الْمُحْدِقِينَ بِهٰذَا الْحَرَمِ
کیا میں داخل ہو جاؤں، اے اللہ کے فرشتو جو اس حرم کو گھیرے ہوئے ہو
الْمُقِيمِينَ بِهٰذَا الْمَشْهَدِ
اور اس مشہد میں مقیم ہو؟
خشوع و خضوع اور نرم دل کے ساتھ دایاں قدم پہلے رکھ کر داخل ہوں اور کہیں:
اَللّٰهُ أَكْبَرُ كَبِيراً
اللہ سب سے بڑا ہے، بہت بڑا،
وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ كَثِيراً
اور اللہ کے لیے بہت زیادہ حمد ہے،
وَسُبْحَانَ اللّٰهِ بُكْرَةً وَأَصِيلاً
اور صبح و شام اللہ کی تسبیح ہے۔
وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ الْفَرْدِ الصَّمَدِ
اور حمد ہے اللہ کے لیے جو یکتا اور بے نیاز ہے،
الْمَاجِدِ الْأَحَدِ
بزرگی والا، یگانہ،
الْمُتَفَضِّلِ الْمَنَّانِ
فضل کرنے والا، بہت احسان کرنے والا،
الْمُتَطَوِّلِ الْحَنَّانِ
عطا کرنے والا، بہت مہربان،
الَّذِي مَنَّ بِطَوْلِهِ
جس نے اپنے کرم سے احسان کیا،
وَسَهَّلَ زِيَارَةَ سَادَاتِي بِإِحْسَانِهِ
اور اپنی عنایت سے میرے سرداروں کی زیارت آسان کی،
وَلَمْ يَجْعَلْنِي عَنْ زِيَارَتِهِمْ مَمْنُوعاً
اور مجھے ان کی زیارت سے محروم نہ رکھا،
بَلْ تَطَوَّلَ وَمَنَحَ
بلکہ کرم کیا اور عطا فرمایا۔
زیارت
پھر ان کی مقدس قبروں کے قریب جائیں، ان کی طرف رخ کریں اور قبلہ پیچھے ہو، اور کہیں:
اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ أَئِمَّةَ الْهُدَى
سلام ہو آپ پر، اے ہدایت کے امامو۔
اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ التَّقْوَى
سلام ہو آپ پر، اے اہلِ تقویٰ۔
اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ أَيُّهَا الْحُجَجُ عَلَى أَهْلِ الدُّنْيَا
سلام ہو آپ پر، اے اہلِ دنیا پر حجتو۔
اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ أَيُّهَا الْقُوَّامُ فِي الْبَرِيَّةِ بِالْقِسْطِ
سلام ہو آپ پر، اے مخلوق میں عدل قائم کرنے والو۔
اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الصَّفْوَةِ
سلام ہو آپ پر، اے برگزیدہ گھرانے والو۔
اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ آلَ رَسُولِ اللّٰهِ
سلام ہو آپ پر، اے آلِ رسولِ خدا۔
اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ النَّجْوَى
سلام ہو آپ پر، اے اللہ سے راز و نیاز کرنے والو۔
أَشْهَدُ أَنَّكُمْ قَدْ بَلَّغْتُمْ وَنَصَحْتُمْ
میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ نے پیغام پہنچایا اور خیر خواہی کی،
وَصَبَرْتُمْ فِي ذَاتِ اللّٰهِ
اللہ کی خاطر صبر کیا،
وَكُذِّبْتُمْ وَأُسِيءَ إِلَيْكُمْ فَغَفَرْتُمْ
آپ کو جھٹلایا گیا اور آپ سے برا سلوک کیا گیا تو آپ نے معاف کر دیا۔
وَأَشْهَدُ أَنَّكُمُ الْأَئِمَّةُ الرَّاشِدُونَ الْمُهْتَدُونَ
اور میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ ہدایت دینے والے، ہدایت یافتہ امام ہیں،
وَأَنَّ طَاعَتَكُمْ مَفْرُوضَةٌ
اور یہ کہ آپ کی اطاعت فرض ہے،
وَأَنَّ قَوْلَكُمُ الصِّدْقُ
اور یہ کہ آپ کا قول سچ ہے،
وَأَنَّكُمْ دَعَوْتُمْ فَلَمْ تُجَابُوا
اور یہ کہ آپ نے بلایا تو آپ کی بات نہ مانی گئی،
وَأَمَرْتُمْ فَلَمْ تُطَاعُوا
اور آپ نے حکم دیا تو آپ کی اطاعت نہ کی گئی،
وَأَنَّكُمْ دَعَائِمُ الدِّينِ وَأَرْكَانُ الْأَرْضِ
اور یہ کہ آپ دین کے ستون اور زمین کے ارکان ہیں۔
لَمْ تَزَالُوا بِعَيْنِ اللّٰهِ
آپ ہمیشہ اللہ کی نگاہ میں رہے،
يَنْسَخُكُمْ مِنْ أَصْلَابِ كُلِّ مُطَهَّرٍ
وہ آپ کو ہر پاکیزہ مرد کی صلب سے منتقل کرتا رہا
وَيَنْقُلُكُمْ مِنْ أَرْحَامِ الْمُطَهَّرَاتِ
اور پاکیزہ عورتوں کے رحموں سے آگے لاتا رہا؛
لَمْ تُدَنِّسْكُمُ الْجَاهِلِيَّةُ الْجَهْلَاءُ
جاہلیت کی تاریکی نے آپ کو آلودہ نہ کیا
وَلَمْ تَشْرَكْ فِيكُمْ فِتَنُ الْأَهْوَاءِ
اور خواہشات کے فتنے آپ میں شریک نہ ہوئے۔
طِبْتُمْ وَطَابَ مَنْبَتُكُمْ
آپ پاکیزہ ہیں اور آپ کی اصل پاکیزہ ہے۔
مَنَّ بِكُمْ عَلَيْنَا دَيَّانُ الدِّينِ
دین کے مالک (جزا دینے والے) نے آپ کے ذریعے ہم پر احسان کیا،
فَجَعَلَكُمْ فِي بُيُوتٍ أَذِنَ اللّٰهُ أَنْ تُرْفَعَ وَيُذْكَرَ فِيهَا اسْمُهُ
اور آپ کو ان گھروں میں رکھا جنہیں بلند کرنے اور جن میں اپنا نام یاد کیے جانے کی اللہ نے اجازت دی ہے (النور: ۳۶)،
وَجَعَلَ صَلَاتَنَا عَلَيْكُمْ رَحْمَةً لَنَا وَكَفَّارَةً لِذُنُوبِنَا
اور آپ پر ہمارے درود کو ہمارے لیے رحمت اور ہمارے گناہوں کا کفارہ بنایا،
إِذِ اخْتَارَكُمُ اللّٰهُ لَنَا
کیونکہ اللہ نے آپ کو ہمارے لیے چن لیا
وَطَيَّبَ خَلْقَنَا بِمَا مَنَّ عَلَيْنَا مِنْ وِلَايَتِكُمْ
اور آپ کی ولایت کا جو احسان ہم پر کیا اس کے ذریعے ہماری خلقت کو پاکیزہ بنایا،
وَكُنَّا عِنْدَهُ مُسَمِّينَ بِعِلْمِكُمْ
اور ہم اس کے ہاں آپ کی معرفت رکھنے والوں میں نامزد تھے،
مُعْتَرِفِينَ بِتَصْدِيقِنَا إِيَّاكُمْ
آپ کی تصدیق کا اعتراف کرتے ہوئے۔
وَهٰذَا مَقَامُ مَنْ أَسْرَفَ وَأَخْطَأَ
اور یہ اس کے کھڑے ہونے کی جگہ ہے جس نے زیادتی کی اور خطا کی،
وَاسْتَكَانَ وَأَقَرَّ بِمَا جَنَى
اور عاجزی کی اور اپنے جرم کا اقرار کیا،
وَرَجَا بِمَقَامِهِ الْخَلَاصَ
اور یہاں کھڑے ہو کر نجات کی امید رکھی،
وَأَنْ يَسْتَنْقِذَهُ بِكُمْ مُسْتَنْقِذُ الْهَلْكَى مِنَ الرَّدَى
اور یہ کہ ہلاک ہونے والوں کو ہلاکت سے بچانے والا آپ کے وسیلے سے اسے بچا لے۔
فَكُونُوا لِي شُفَعَاءَ
پس آپ میرے شفیع بن جائیں،
فَقَدْ وَفَدْتُ إِلَيْكُمْ إِذْ رَغِبَ عَنْكُمْ أَهْلُ الدُّنْيَا
کیونکہ میں آپ کے پاس اس وقت آیا ہوں جب اہلِ دنیا نے آپ سے منہ موڑ لیا،
وَاتَّخَذُوا آيَاتِ اللّٰهِ هُزُواً
اور اللہ کی آیات کو مذاق بنا لیا
وَاسْتَكْبَرُوا عَنْهَا
اور ان سے تکبر کیا۔
پھر آسمان کی طرف سر اٹھا کر کہیں:
يَا مَنْ هُوَ قَائِمٌ لَا يَسْهُو
اے وہ جو قائم ہے، غافل نہیں ہوتا،
وَدَائِمٌ لَا يَلْهُو
اور ہمیشہ رہنے والا ہے، غفلت میں نہیں پڑتا،
وَمُحِيطٌ بِكُلِّ شَيْءٍ
اور ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے؛
لَكَ الْمَنُّ بِمَا وَفَّقْتَنِي
تیرا ہی احسان ہے کہ تو نے مجھے توفیق دی،
وَعَرَّفْتَنِي بِمَا أَقَمْتَنِي عَلَيْهِ
اور اس چیز کی معرفت عطا کی جس پر تو نے مجھے قائم رکھا،
إِذْ صَدَّ عَنْهُ عِبَادُكَ
جب تیرے بندوں نے اس سے منہ موڑا،
وَجَهِلُوا مَعْرِفَتَهُ
اس کی معرفت سے ناواقف رہے،
وَاسْتَخَفُّوا بِحَقِّهِ
اس کے حق کو ہلکا سمجھا
وَمَالُوا إِلَى سِوَاهُ
اور اس کے سوا کی طرف جھک گئے۔
فَكَانَتِ الْمِنَّةُ مِنْكَ عَلَيَّ
پس یہ تیرا مجھ پر احسان تھا،
مَعَ أَقْوَامٍ خَصَصْتَهُمْ بِمَا خَصَصْتَنِي بِهِ
ان لوگوں کے ساتھ جنہیں تو نے وہی خصوصیت دی جو مجھے دی۔
فَلَكَ الْحَمْدُ إِذْ كُنْتُ عِنْدَكَ فِي مَقَامِي هٰذَا مَذْكُوراً مَكْتُوباً
پس تیرے ہی لیے حمد ہے کہ میں اپنے اس مقام پر تیرے ہاں مذکور اور لکھا ہوا ہوں۔
فَلَا تَحْرِمْنِي مَا رَجَوْتُ
پس مجھے اس سے محروم نہ کر جس کی میں نے امید رکھی،
وَلَا تُخَيِّبْنِي فِيمَا دَعَوْتُ
اور جو دعا میں نے کی اس میں مجھے ناکام نہ کر،
بِحُرْمَةِ مُحَمَّدٍ وَآلِهِ الطَّاهِرِينَ
محمد اور ان کی پاکیزہ آل کی حرمت کے واسطے؛
وَصَلَّى اللّٰهُ عَلَى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ
اور اللہ محمد و آلِ محمد پر رحمت نازل فرمائے۔
وداع
پھر اپنے لیے جو چاہیں دعا کریں، اور آٹھ رکعت نمازِ زیارت پڑھیں — ہر امامؑ کے لیے دو رکعت (شیخ طوسیؒ، التہذیب)۔ وداع کے وقت کہیں:
اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ أَئِمَّةَ الْهُدَى وَرَحْمَةُ اللّٰهِ وَبَرَكَاتُهُ
سلام ہو آپ پر، اے ہدایت کے امامو، اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں۔
أَسْتَوْدِعُكُمُ اللّٰهَ وَأَقْرَأُ عَلَيْكُمُ السَّلَامَ
میں آپ کو اللہ کے سپرد کرتا ہوں اور آپ کو سلام پیش کرتا ہوں۔
آمَنَّا بِاللّٰهِ وَبِالرَّسُولِ وَبِمَا جِئْتُمْ بِهِ وَدَلَلْتُمْ عَلَيْهِ
ہم اللہ پر، رسول پر اور اس پر ایمان لائے جو آپ لائے اور جس کی طرف آپ نے رہنمائی کی۔
اَللّٰهُمَّ فَاكْتُبْنَا مَعَ الشَّاهِدِينَ
اے اللہ! ہمیں گواہی دینے والوں کے ساتھ لکھ لے۔