زیارتِ امام علی نقیؑ
سامرہ میں روضے میں داخلہ
غسلِ زیارت کے بعد جب روضۂ مبارک کے دروازے پر پہنچیں تو اجازت طلب کریں اور کہیں:
أَأَدْخُلُ يَا نَبِيَّ اللّٰهِ
کیا میں داخل ہو جاؤں، اے اللہ کے نبی؟
أَأَدْخُلُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ
کیا میں داخل ہو جاؤں، اے امیر المومنین؟
أَأَدْخُلُ يَا فَاطِمَةُ الزَّهْرَاءُ
کیا میں داخل ہو جاؤں، اے فاطمہ زہرا،
سَيِّدَةَ نِسَاءِ الْعَالَمِينَ
تمام جہانوں کی عورتوں کی سردار؟
أَأَدْخُلُ يَا مَوْلَايَ الْحَسَنُ بْنَ عَلِيٍّ
کیا میں داخل ہو جاؤں، اے میرے مولا حسن بن علی؟
أَأَدْخُلُ يَا مَوْلَايَ الْحُسَيْنُ بْنَ عَلِيٍّ
کیا میں داخل ہو جاؤں، اے میرے مولا حسین بن علی؟
أَأَدْخُلُ يَا مَوْلَايَ عَلِيُّ بْنَ الْحُسَيْنِ
کیا میں داخل ہو جاؤں، اے میرے مولا علی بن الحسین؟
أَأَدْخُلُ يَا مَوْلَايَ مُحَمَّدُ بْنَ عَلِيٍّ
کیا میں داخل ہو جاؤں، اے میرے مولا محمد بن علی؟
أَأَدْخُلُ يَا مَوْلَايَ جَعْفَرُ بْنَ مُحَمَّدٍ
کیا میں داخل ہو جاؤں، اے میرے مولا جعفر بن محمد؟
أَأَدْخُلُ يَا مَوْلَايَ مُوسَىٰ بْنَ جَعْفَرٍ
کیا میں داخل ہو جاؤں، اے میرے مولا موسیٰ بن جعفر؟
أَأَدْخُلُ يَا مَوْلَايَ عَلِيُّ بْنَ مُوسَىٰ
کیا میں داخل ہو جاؤں، اے میرے مولا علی بن موسیٰ؟
أَأَدْخُلُ يَا مَوْلَايَ مُحَمَّدُ بْنَ عَلِيٍّ
کیا میں داخل ہو جاؤں، اے میرے مولا محمد بن علی؟
أَأَدْخُلُ يَا مَوْلَايَ يَا أَبَا الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنَ مُحَمَّدٍ
کیا میں داخل ہو جاؤں، اے میرے مولا، اے ابو الحسن علی بن محمد؟
أَأَدْخُلُ يَا مَوْلَايَ يَا أَبَا مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنَ عَلِيٍّ
کیا میں داخل ہو جاؤں، اے میرے مولا، اے ابو محمد حسن بن علی؟
أَأَدْخُلُ يَا مَلَائِكَةَ اللّٰهِ
کیا میں داخل ہو جاؤں، اے اللہ کے فرشتو،
الْمُوَكَّلِينَ بِهٰذَا الْحَرَمِ الشَّرِيفِ
جو اس مقدس حرم پر مقرر ہو؟
پھر دایاں قدم پہلے رکھ کر داخل ہوں، امام ابو الحسن علی نقیؑ کی ضریح کے سامنے اس طرح کھڑے ہوں کہ قبلہ پیچھے ہو، اور سو (۱۰۰) مرتبہ کہیں:
اَللّٰهُ أَكْبَرُ
اللہ سب سے بڑا ہے۔
زیارتِ امام علی نقیؑ
پھر کہیں:
اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا أَبَا الْحَسَنِ
سلام ہو آپ پر، اے ابو الحسن،
عَلِيُّ بْنَ مُحَمَّدٍ
علی بن محمد،
الزَّكِيُّ الرَّاشِدُ
پاکیزہ و ہدایت یافتہ،
النُّورُ الثَّاقِبُ
روشن و درخشاں نور،
وَرَحْمَةُ اللّٰهِ وَبَرَكَاتُهٗ
اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں۔
اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا صَفِيَّ اللّٰهِ
سلام ہو آپ پر، اے اللہ کے برگزیدہ۔
اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا سِرَّ اللّٰهِ
سلام ہو آپ پر، اے اللہ کے راز۔
اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا حَبْلَ اللّٰهِ
سلام ہو آپ پر، اے اللہ کی رسی۔
اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا آلَ اللّٰهِ
سلام ہو آپ پر، اے آلِ اللہ۔
اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا خِيَرَةَ اللّٰهِ
سلام ہو آپ پر، اے اللہ کے منتخب۔
اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا صَفْوَةَ اللّٰهِ
سلام ہو آپ پر، اے اللہ کے چنے ہوئے۔
اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا أَمِينَ اللّٰهِ
سلام ہو آپ پر، اے اللہ کے امین۔
اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا حَقَّ اللّٰهِ
سلام ہو آپ پر، اے اللہ کے حق۔
اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا حَبِيبَ اللّٰهِ
سلام ہو آپ پر، اے اللہ کے حبیب۔
اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا نُورَ الْأَنْوَارِ
سلام ہو آپ پر، اے نوروں کے نور۔
اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا زَيْنَ الْأَبْرَارِ
سلام ہو آپ پر، اے نیکوکاروں کی زینت۔
اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا سَلِيلَ الْأَخْيَارِ
سلام ہو آپ پر، اے نیک لوگوں کی نسل۔
اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا عُنْصُرَ الْأَطْهَارِ
سلام ہو آپ پر، اے پاکیزہ ہستیوں کی اصل۔
اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا حُجَّةَ الرَّحْمٰنِ
سلام ہو آپ پر، اے رحمٰن کی حجت۔
اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رُكْنَ الْإِيمَانِ
سلام ہو آپ پر، اے ایمان کے رکن۔
اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا مَوْلَىٰ الْمُؤْمِنِينَ
سلام ہو آپ پر، اے مومنوں کے مولا۔
اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا وَلِيَّ الصَّالِحِينَ
سلام ہو آپ پر، اے صالحین کے ولی۔
اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا عَلَمَ الْهُدَىٰ
سلام ہو آپ پر، اے ہدایت کے پرچم۔
اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا حَلِيفَ التُّقَىٰ
سلام ہو آپ پر، اے تقویٰ کے ہم پیمان۔
اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا عَمُودَ الدِّينِ
سلام ہو آپ پر، اے دین کے ستون۔
اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا بْنَ خَاتَمِ النَّبِيِّينَ
سلام ہو آپ پر، اے خاتم النبیین کے فرزند۔
اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا بْنَ سَيِّدِ الْوَصِيِّينَ
سلام ہو آپ پر، اے سید الوصیین کے فرزند۔
اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا بْنَ فَاطِمَةَ الزَّهْرَاءِ
سلام ہو آپ پر، اے فاطمہ زہرا کے فرزند،
سَيِّدَةِ نِسَاءِ الْعَالَمِينَ
جو تمام جہانوں کی عورتوں کی سردار ہیں۔
اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا الْأَمِينُ الْوَفِيُّ
سلام ہو آپ پر، اے وفادار امین۔
اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا الْعَلَمُ الرَّضِيُّ
سلام ہو آپ پر، اے پسندیدہ پرچمِ ہدایت۔
اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا الزَّاهِدُ التَّقِيُّ
سلام ہو آپ پر، اے زاہد و پرہیزگار۔
اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا الْحُجَّةُ عَلَىٰ الْخَلْقِ أَجْمَعِينَ
سلام ہو آپ پر، اے تمام مخلوق پر حجت۔
اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا التَّالِي لِلْقُرْآنِ
سلام ہو آپ پر، اے قرآن کی تلاوت کرنے والے۔
اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا الْمُبَيِّنُ لِلْحَلَالِ مِنَ الْحَرَامِ
سلام ہو آپ پر، اے حلال کو حرام سے جدا کر کے بیان کرنے والے۔
اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا الْوَلِيُّ النَّاصِحُ
سلام ہو آپ پر، اے خیر خواہ ولی۔
اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا الطَّرِيقُ الْوَاضِحُ
سلام ہو آپ پر، اے واضح راستے۔
اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّجْمُ اللَّائِحُ
سلام ہو آپ پر، اے چمکتے ستارے۔
أَشْهَدُ يَا مَوْلَايَ يَا أَبَا الْحَسَنِ
میں گواہی دیتا ہوں، اے میرے مولا، اے ابو الحسن،
أَنَّكَ حُجَّةُ اللّٰهِ عَلَىٰ خَلْقِهٖ
کہ آپ اللہ کی مخلوق پر اس کی حجت،
وَخَلِيفَتُهٗ فِي بَرِيَّتِهٖ
اس کی خلق میں اس کے خلیفہ،
وَأَمِينُهُ فِي بِلَادِهٖ
اس کے شہروں میں اس کے امین
وَشَاهِدُهٗ عَلَىٰ عِبَادِهٖ
اور اس کے بندوں پر اس کے گواہ ہیں۔
وَأَشْهَدُ أَنَّكَ كَلِمَةُ التَّقْوَىٰ
اور میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ تقویٰ کا کلمہ،
وَبَابُ الْهُدَىٰ
ہدایت کا دروازہ،
وَالْعُرْوَةُ الْوُثْقَىٰ
مضبوط ترین سہارا (عروۃ الوثقیٰ)
وَالْحُجَّةُ عَلَىٰ مَنْ فَوْقَ الْأَرْضِ
اور ان سب پر حجت ہیں جو زمین کے اوپر ہیں
وَمَنْ تَحْتَ الثَّرَىٰ
اور جو خاک کے نیچے ہیں۔
وَأَشْهَدُ أَنَّكَ الْمُطَهَّرُ مِنَ الذُّنُوبِ
اور میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ گناہوں سے پاک کیے گئے،
الْمُبَرَّأُ مِنَ الْعُيُوبِ
عیبوں سے بری،
وَالْمُخْتَصُّ بِكَرَامَةِ اللّٰهِ
اللہ کی کرامت کے لیے مخصوص،
وَالْمَحْبُوُّ بِحُجَّةِ اللّٰهِ
اللہ کی حجت سے نوازے گئے،
وَالْمَوْهُوبُ لَهٗ كَلِمَةُ اللّٰهِ
اللہ کا کلمہ عطا کیے گئے،
وَالرُّكْنُ الَّذِي يَلْجَأُ إِلَيْهِ الْعِبَادُ
اور وہ رکن ہیں جس کی پناہ بندے لیتے ہیں
وَتُحْيَىٰ بِهِ الْبِلَادُ
اور جس کے ذریعے شہروں کو زندگی ملتی ہے۔
وَأَشْهَدُ يَا مَوْلَايَ
اور میں گواہی دیتا ہوں، اے میرے مولا،
أَنِّي بِكَ وَبِآبَائِكَ وَأَبْنَائِكَ مُوقِنٌ مُقِرٌّ
کہ میں آپ پر، آپ کے آبا پر اور آپ کے فرزندوں پر یقین رکھتا اور اقرار کرتا ہوں،
وَلَكُمْ تَابِعٌ فِي ذَاتِ نَفْسِي
اور اپنی ذات میں آپ کا پیرو ہوں،
وَشَرَايِعِ دِينِي
اپنے دین کے احکام میں،
وَخَاتِمَةِ عَمَلِي
اپنے عمل کے انجام میں،
وَمُنْقَلَبِي وَمَثْوَايَ
اور اپنے لوٹنے اور اپنے ٹھکانے میں؛
وَأَنِّي وَلِيٌّ لِمَنْ وَالَاكُمْ
اور یہ کہ میں اس کا دوست ہوں جو آپ سے دوستی رکھے
وَعَدُوٌّ لِمَنْ عَادَاكُمْ
اور اس کا دشمن ہوں جو آپ سے دشمنی رکھے،
مُؤْمِنٌ بِسِرِّكُمْ وَعَلَانِيَتِكُمْ
آپ کے پوشیدہ اور ظاہر پر ایمان رکھتا ہوں،
وَأَوَّلِكُمْ وَآخِرِكُمْ
اور آپ کے اول اور آپ کے آخر پر۔
بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي
میرے ماں باپ آپ پر قربان۔
وَالسَّلَامُ عَلَيْكَ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ وَبَرَكَاتُهٗ
اور آپ پر سلام ہو اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں۔
پھر ضریح کو بوسہ دیں، اپنا دایاں رخسار اس پر رکھیں پھر بایاں، اور کہیں:
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَىٰ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ
اے اللہ! محمد و آلِ محمد پر رحمت نازل فرما،
وَصَلِّ عَلَىٰ حُجَّتِكَ الْوَفِيِّ
اور اپنی وفادار حجت پر رحمت نازل فرما،
وَوَلِيِّكَ الزَّكِيِّ
اپنے پاکیزہ ولی،
وَأَمِينِكَ الْمُرْتَضَىٰ
اپنے پسندیدہ امین،
وَصَفِيِّكَ الْهَادِي
اپنے برگزیدہ ہادی،
وَصِرَاطِكَ الْمُسْتَقِيمِ
اپنے سیدھے راستے،
وَالْجَادَّةِ الْعُظْمَىٰ
عظیم شاہراہ،
وَالطَّرِيقَةِ الْوُسْطَىٰ
درمیانی راہ (راہِ اعتدال)،
نُورِ قُلُوبِ الْمُؤْمِنِينَ
مومنوں کے دلوں کے نور،
وَوَلِيِّ الْمُتَّقِينَ
پرہیزگاروں کے ولی
وَصَاحِبِ الْمُخْلِصِينَ
اور مخلصوں کے ساتھی پر۔
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلَىٰ سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَأَهْلِ بَيْتِهٖ
اے اللہ! ہمارے سردار محمد اور ان کے اہلِ بیت پر رحمت نازل فرما،
وَصَلِّ عَلَىٰ عَلِيِّ بْنِ مُحَمَّدٍ
اور علی بن محمد پر رحمت نازل فرما،
الرَّاشِدِ الْمَعْصُومِ مِنَ الزَّلَلِ
جو ہدایت یافتہ اور لغزش سے محفوظ ہیں،
وَالطَّاهِرِ مِنَ الْخَلَلِ
ہر خلل سے پاک ہیں،
وَالْمُنْقَطِعِ إِلَيْكَ بِالْأَمَلِ
اپنی امید کے ساتھ صرف تیری طرف لو لگائے ہوئے ہیں،
الْمَبْلُوِّ بِالْفِتَنِ
فتنوں میں آزمائے گئے،
وَالْمُخْتَبَرِ بِالْمِحَنِ
مصیبتوں سے جانچے گئے،
وَالْمُمْتَحَنِ بِحُسْنِ الْبَلْوَىٰ
آزمائش کو خوبی سے سہنے میں امتحان دیا گیا
وَصَبْرِ الشَّكْوَىٰ
اور شکوے کے بجائے صبر کیا؛
مُرْشِدِ عِبَادِكَ
جو تیرے بندوں کے رہنما،
وَبَرَكَةِ بِلَادِكَ
تیرے شہروں کی برکت،
وَمَحَلِّ رَحْمَتِكَ
تیری رحمت کا مقام،
وَمُسْتَوْدَعِ حِكْمَتِكَ
تیری حکمت کے امانت دار،
وَالْقَائِدِ إِلَىٰ جَنَّتِكَ
تیری جنت کی طرف لے جانے والے،
الْعَالِمِ فِي بَرِيَّتِكَ
تیری مخلوق میں عالم
وَالْهَادِي فِي خَلِيقَتِكَ
اور تیری خلقت میں ہادی ہیں،
الَّذِي ارْتَضَيْتَهٗ وَانْتَجَبْتَهٗ
جنہیں تو نے پسند کیا اور منتخب فرمایا،
وَاخْتَرْتَهٗ لِمَقَامِ رَسُولِكَ فِي أُمَّتِهِ
اور اپنے رسول کی امت میں ان کا قائم مقام بننے کے لیے چن لیا،
وَأَلْزَمْتَهُ حِفْظَ شَرِيعَتِهٖ
اور رسول کی شریعت کی حفاظت ان کے ذمے لگائی۔
فَاسْتَقَلَّ بِأَعْبَاءِ الْوَصِيَّةِ
تو انہوں نے وصایت کا بوجھ اٹھایا،
نَاهِضاً بِهَا
اس کے لیے کمر بستہ ہو کر
وَمُضْطَلِعاً بِحَمْلِهَا
اور اسے اٹھانے کی پوری طاقت کے ساتھ؛
لَمْ يَعْثُرْ فِي مُشْكِلٍ
وہ کسی مشکل میں نہیں لڑکھڑائے
وَلَا هَفَا فِي مُعْضِلٍ
اور نہ کسی پیچیدہ مسئلے میں چوکے،
بَلْ كَشَفَ الْغُمَّةَ
بلکہ غم کے بادل چھانٹ دیے،
وَسَدَّ الْفُرْجَةَ
رخنہ بند کیا
وَأَدَّىٰ الْمُفْتَرَضَ
اور فرض کو ادا کیا۔
اَللّٰهُمَّ فَكَمَا أَقْرَرْتَ نَاظِرَ نَبِيِّكَ بِهٖ
اے اللہ! جس طرح تو نے ان کے ذریعے اپنے نبی کی آنکھ ٹھنڈی کی،
فَرَقِّهٖ دَرَجَتَهٗ
اسی طرح ان کا درجہ بلند فرما،
وَأَجْزِلْ لَدَيْكَ مَثُوبَتَهٗ
اپنے ہاں ان کا ثواب وافر کر،
وَصَلِّ عَلَيْهِ
ان پر رحمت نازل فرما،
وَبَلِّغْهُ مِنَّا تَحِيَّةً وَسَلَاماً
اور ہماری طرف سے انہیں تحیت اور سلام پہنچا،
وَآتِنَا مِنْ لَدُنْكَ فِي مُوَالَاتِهٖ فَضْلًا وَإِحْسَاناً
اور ان کی ولایت کے صدقے ہمیں اپنی طرف سے فضل و احسان،
وَمَغْفِرَةً وَرِضْوَاناً
مغفرت اور رضوان عطا فرما؛
إِنَّكَ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ
بے شک تو بڑے فضل والا ہے۔