ادارتی حیثیت: مستند علماء کی نظرِ ثانی کا منتظر مسودہ۔ تصحیح کے لیے رابطہ صفحہ استعمال کریں۔
محمد، امام علی علیہ السلام اور قبیلۂ بنی حنیفہ کی خولہ کے فرزند، اپنے والد کی جنگوں میں ایک بہادر سالار تھے۔ جب امام حسین علیہ السلام عراق روانہ ہوئے تو وہ مدینہ میں رہے، اور بعد کے برسوں میں کیسانیہ نامی گروہ نے انہیں امام قرار دیا؛ اثنا عشری ماخذ لکھتے ہیں کہ انہوں نے علی بن الحسین علیہ السلام کی امامت کو تسلیم کیا۔
اپنے والد کی جنگوں میں
محمد اپنی والدہ کے قبیلے کی نسبت سے ابن حنفیہ کہلائے۔ جنگِ جمل میں انہوں نے اپنے والد کا علم اٹھایا اور صفین اور نہروان میں لڑے؛ تاریخ کی کتابیں بیان کرتی ہیں کہ جنگِ جمل میں امام علی علیہ السلام نے علم دوبارہ انہیں سونپا اور انہیں آگے بڑھنے پر ابھارا۔
کربلا اور اس کے بعد
وہ امام حسین علیہ السلام کے ساتھ عراق نہیں گئے۔ ماخذ میں اس کی وجوہات مختلف بیان ہوئی ہیں — بیماری، یا ان کے بھائی کی یہ خواہش کہ وہ مدینہ میں رہیں — اور شیعہ روایت ان کی غیر حاضری کو بے وفائی شمار نہیں کرتی۔ کربلا کے بعد مختار نے کوفہ میں خونِ حسین کا انتقام لینے کے نام پر قیام کیا، اور کیسانیہ نامی گروہ نے محمد کو امام اور بعد میں مہدیِ منتظر قرار دیا۔
کلینی لکھتے ہیں کہ محمد اور امام علی بن الحسین علیہ السلام یہ طے کرنے کے لیے مکہ میں حجرِ اسود کے پاس گئے کہ ان میں امام کون ہے، اور حجرِ اسود نے علی بن الحسین کے حق میں گواہی دی، جس کے بعد محمد نے ان کی امامت قبول کی۔ انہوں نے ۸۱ھ میں وفات پائی۔
مختلف روایات
- مدفن: مدینہ کا جنت البقیع زیادہ قرینِ قیاس ہے؛ طائف اور ایلہ کا نام بھی لیا گیا ہے۔
- مدینہ میں رہنے کی وجہ: بیماری یا ان کے بھائی کی ہدایت؛ ماخذ اس کا فیصلہ نہیں کرتے۔
حوالہ جات
- تاریخ الرسل والملوک — طبری، محمد بن جریر (متوفی ۳۱۰ھ / ۹۲۳ء)۔ سنہ ۳۶ تا ۸۱ھ
- الکافی — کلینی، محمد بن یعقوب (متوفی ۳۲۹ھ / ۹۴۱ء)۔ کتاب الحجۃ
- کتاب الارشاد فی معرفۃ حجج اللہ علی العباد — شیخ مفید، محمد بن محمد بن النعمان (متوفی ۴۱۳ھ / ۱۰۲۲ء)۔ حصہ اول