ادارتی حیثیت: مستند علماء کی نظرِ ثانی کا منتظر مسودہ۔ تصحیح کے لیے رابطہ صفحہ استعمال کریں۔
فاطمہ بنت حزام، جو ام البنین یعنی بیٹوں کی ماں کے نام سے معروف ہیں، سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیہا کی رحلت کے بعد امام علی علیہ السلام کے نکاح میں آئیں۔ ان کے چاروں بیٹے کربلا میں امام حسین علیہ السلام کے ساتھ شہید ہوئے، اور جنت البقیع میں ان پر ان کے نوحے اہلِ بیتِ رسول ﷺ سے وفاداری کے طور پر یاد کیے جاتے ہیں۔
امام علی سے نکاح
ام البنین قبیلۂ بنی کلاب سے تھیں، جو عربوں میں اپنے شہسواروں کے لیے مشہور تھا۔ بعد کی نسب کی کتابیں، جیسے ابن عنبہ کی عمدۃ الطالب، بیان کرتی ہیں کہ امام علی علیہ السلام نے اپنے بھائی عقیل سے، جو عرب انساب کے ماہر تھے، کہا کہ کسی بہادر خاندان سے زوجہ تجویز کریں، اور عقیل نے ان کا نام لیا۔ ان سے امام علی کے چار بیٹے ہوئے: عباس، عبد اللہ، جعفر اور عثمان۔
کربلا کے بعد
ام البنین کربلا میں موجود نہیں تھیں۔ ابو الفرج اصفہانی لکھتے ہیں کہ جب ان کے بیٹوں کی شہادت کی خبر مدینہ پہنچی تو وہ جنت البقیع جا کر اشعار میں ان کا ایسا دردناک نوحہ کرتیں کہ لوگ ان کے ساتھ رونے کے لیے جمع ہو جاتے۔ انہوں نے مدینہ میں وفات پائی اور جنت البقیع میں دفن ہیں۔
مختلف روایات
- تاریخِ وفات: ماخذ میں درج نہیں؛ ۱۳ جمادی الثانی ۶۴ھ، جو آج کل اکثر بتائی جاتی ہے، بعد کی کتب سے ہے۔
حوالہ جات
- مقاتل الطالبیین — ابو الفرج اصفہانی، علی بن الحسین (متوفی ۳۵۶ھ / ۹۶۷ء)
- عمدۃ الطالب فی انساب آل ابی طالب — ابن عنبہ، جمال الدین احمد بن علی (متوفی ۸۲۸ھ / ۱۴۲۵ء)
- کتاب الارشاد فی معرفۃ حجج اللہ علی العباد — شیخ مفید، محمد بن محمد بن النعمان (متوفی ۴۱۳ھ / ۱۰۲۲ء)۔ حصہ اول