زیارتِ رسولِ اکرمؐ
اذنِ دخول پڑھ کر مسجدِ نبوی میں داخل ہوں اور دو رکعت نماز پڑھیں، پھر حجرۂ مبارکہ کے پاس جائیں، اسے ہاتھ لگائیں، بوسہ دیں اور کہیں:
اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ
سلام ہو آپ پر، اے اللہ کے رسول۔
اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا نَبِيَّ اللّٰهِ
سلام ہو آپ پر، اے اللہ کے نبی۔
اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللّٰهِ
سلام ہو آپ پر، اے محمد بن عبد اللہ۔
اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا خَاتَمَ النَّبِيِّيْنَ
سلام ہو آپ پر، اے خاتم النبیین۔
اَشْهَدُ اَنَّكَ قَدْ بَلَّغْتَ الرِّسَالَةَ
میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ نے رسالت کا پیغام پہنچا دیا،
وَاَقَمْتَ الصَّلَاةَ وَاٰتَيْتَ الزَّكَاةَ
نماز قائم کی اور زکوٰۃ ادا کی،
وَاَمَرْتَ بِالْمَعْرُوْفِ وَنَهَيْتَ عَنِ الْمُنْكَرِ
نیکی کا حکم دیا اور برائی سے روکا،
وَعَبَدْتَ اللّٰهَ مُخْلِصًا حَتّٰىۤ اَتَاكَ الْيَقِيْنُ
اور خلوص کے ساتھ اللہ کی عبادت کی یہاں تک کہ آپ کے پاس یقین (موت) آ گیا۔
فَصَلَوَاتُ اللّٰهِ عَلَيْكَ وَرَحْمَتُهٗ وَعَلٰۤى اَهْلِ بَيْتِكَ الطَّاهِرِيْنَ
پس اللہ کی رحمتیں اور اس کی مہربانی ہو آپ پر اور آپ کے پاکیزہ اہلِ بیت پر۔
پھر قبرِ مبارک کی دائیں جانب اگلے ستون کے پاس قبلہ رخ کھڑے ہوں، بایاں کندھا قبر کی طرف ہو — یہ سرِ مبارک کا مقام ہے — اور کہیں:
اَشْهَدُ اَنْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهٗ لَا شَرِيْكَ لَهٗ
میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ یکتا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں،
وَاَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهٗ وَرَسُوْلُهٗ
اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔
وَاَشْهَدُ اَنَّكَ رَسُوْلُ اللّٰهِ
میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں،
وَاَنَّكَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللّٰهِ
اور یہ کہ آپ محمد بن عبد اللہ ہیں۔
وَاَشْهَدُ اَنَّكَ قَدْ بَلَّغْتَ رِسَالَاتِ رَبِّكَ
میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ نے اپنے رب کے پیغامات پہنچا دیے،
وَنَصَحْتَ لِاُمَّتِكَ وَجَاهَدْتَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ
اپنی امت کی خیر خواہی کی اور اللہ کی راہ میں جہاد کیا،
وَعَبَدْتَ اللّٰهَ حَتّٰىۤ اَتَاكَ الْيَقِيْنُ
اور اللہ کی عبادت کی یہاں تک کہ آپ کے پاس یقین آ گیا،
بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ
حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ؛
وَاَدَّيْتَ الَّذِيْ عَلَيْكَ مِنَ الْحَقِّ
اور حق کی جو ذمہ داری آپ پر تھی وہ ادا کر دی،
وَاَنَّكَ قَدْ رَؤُفْتَ بِالْمُؤْمِنِيْنَ
آپ مومنوں پر مہربان رہے
وَغَلُظْتَ عَلَى الْكَافِرِيْنَ
اور کافروں پر سخت۔
فَبَلَغَ اللّٰهُ بِكَ اَفْضَلَ شَرَفِ مَحَلِّ الْمُكَرَّمِيْنَ
پس اللہ نے آپ کو عزت والوں کے مقام کے بہترین شرف تک پہنچا دیا۔
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ اسْتَنْقَذَنَا بِكَ مِنَ الشِّرْكِ وَالضَّلَالَةِ
تمام تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے آپ کے ذریعے ہمیں شرک اور گمراہی سے نجات دی۔
اَللّٰهُمَّ فَاجْعَلْ صَلَوَاتِكَ وَصَلَوَاتِ مَلَاۤئِكَتِكَ الْمُقَرَّبِيْنَ
اے اللہ! اپنی رحمتیں، اپنے مقرب فرشتوں کی رحمتیں،
وَاَنْبِيَاۤئِكَ الْمُرْسَلِيْنَ وَعِبَادِكَ الصَّالِحِيْنَ
اپنے مرسل انبیا اور اپنے نیک بندوں کی رحمتیں،
وَاَهْلِ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرَضِيْنَ
آسمانوں اور زمینوں کے رہنے والوں کی رحمتیں،
وَمَنْ سَبَّحَ لَكَ يَا رَبَّ الْعَالَمِيْنَ مِنَ الْاَوَّلِيْنَ وَالْاٰخِرِيْنَ
اور اے عالمین کے پروردگار! اگلوں اور پچھلوں میں سے جس نے بھی تیری تسبیح کی، اس کی رحمتیں
عَلٰى مُحَمَّدٍ عَبْدِكَ وَرَسُوْلِكَ وَنَبِيِّكَ وَاَمِيْنِكَ
محمد پر قرار دے جو تیرے بندے، تیرے رسول، تیرے نبی اور تیرے امین ہیں،
وَنَجِيْبِكَ وَحَبِيْبِكَ وَصَفِيِّكَ وَخَآصَّتِكَ
تیرے برگزیدہ، تیرے حبیب، تیرے چنے ہوئے اور تیرے خاص،
وَصَفْوَتِكَ وَخِيَرَتِكَ مِنْ خَلْقِكَ
تیرے منتخب اور تیری مخلوق میں سب سے بہتر ہیں۔
اَللّٰهُمَّ اَعْطِهِ الدَّرَجَةَ الرَّفِيْعَةَ
اے اللہ! انہیں بلند درجہ عطا فرما،
وَاٰتِهِ الْوَسِيْلَةَ مِنَ الْجَنَّةِ
انہیں جنت میں وسیلہ (قرب کا مقام) عطا فرما،
وَابْعَثْهُ مَقَامًا مَحْمُوْدًا يَغْبِطُهٗ بِهِ الْاَوَّلُوْنَ وَالْاٰخِرُوْنَ
اور انہیں اس مقامِ محمود پر مبعوث فرما جس پر اگلے اور پچھلے رشک کریں۔
اَللّٰهُمَّ اِنَّكَ قُلْتَ
اے اللہ! تو نے فرمایا ہے:
وَلَوْ اَنَّهُمْ اِذْ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ جَاۤءُوْكَ
”اور اگر وہ لوگ جب انہوں نے اپنے اوپر ظلم کیا تھا، آپ کے پاس آتے
فَاسْتَغْفَرُوا اللّٰهَ وَاسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُوْلُ
اور اللہ سے مغفرت مانگتے اور رسول بھی ان کے لیے مغفرت مانگتے،
لَوَجَدُوا اللّٰهَ تَوَّابًا رَحِيْمًا
تو وہ اللہ کو بہت توبہ قبول کرنے والا، نہایت رحم کرنے والا پاتے۔“ (النساء: ۶۴)
وَاِنِّيْۤ اَتَيْتُكَ مُسْتَغْفِرًا تَاۤئِبًا مِنْ ذُنُوْبِيْ
اور میں آپ کے پاس اپنے گناہوں سے مغفرت چاہتا اور توبہ کرتا ہوا آیا ہوں،
وَاِنِّيْۤ اَتَوَجَّهُ بِكَ اِلَى اللّٰهِ رَبِّيْ وَرَبِّكَ لِيَغْفِرَ لِيْ ذُنُوْبِيْ
اور آپ کے وسیلے سے اللہ کی طرف متوجہ ہوتا ہوں جو میرا اور آپ کا رب ہے، تاکہ وہ میرے گناہ بخش دے۔
امام جعفر صادقؑ قبرِ رسولؐ کے پاس آئے، اس پر ہاتھ رکھا اور فرمایا:
اَسْاَلُ اللّٰهَ الَّذِيْ اجْتَبَاكَ وَاخْتَارَكَ
میں اللہ سے سوال کرتا ہوں جس نے آپ کو چنا، منتخب کیا
وَهَدَاكَ وَهَدٰى بِكَ اَنْ يُصَلِّيَ عَلَيْكَ
اور ہدایت دی اور آپ کے ذریعے (دوسروں کو) ہدایت دی، کہ وہ آپ پر رحمتیں نازل فرمائے۔
پھر یہ آیت پڑھی:
اِنَّ اللّٰهَ وَمَلَاۤئِكَتَهٗ يُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِيِّ
”بے شک اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں؛
يَاۤ اَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوْا تَسْلِيْمًا
اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود بھیجو اور خوب سلام بھیجو۔“ (الاحزاب: ۵۶)