ادارتی حیثیت: مستند علماء کی نظرِ ثانی کا منتظر مسودہ۔ تصحیح کے لیے رابطہ صفحہ استعمال کریں۔
حکیمہ، امام محمد تقی علیہ السلام کی بیٹی، بارہویں امام عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے ظہور کی بنیادی گواہ ہیں۔ اثنا عشری ماخذ ۱۵ شعبان ۲۵۵ھ کی رات کا ان کا بیان محفوظ رکھتے ہیں، جو ان کے بھتیجے امام حسن عسکری علیہ السلام کے گھر میں پیش آیا۔
بارہویں امام کے ظہور کی گواہ
شیخ صدوق کمال الدین میں اور شیخ طوسی الغیبہ میں حکیمہ کا بیان نقل کرتے ہیں: امام حسن عسکری علیہ السلام نے ان سے نیمۂ شعبان کی رات ٹھہرنے کو کہا کیونکہ موعود فرزند کا ظہور ہونے والا تھا، اور جب ظہور ہوا تو وہ نرجس کے پاس تھیں اور انہوں نے بچے کو گود میں لیا۔ شیخ صدوق یہ بھی لکھتے ہیں کہ امام علی نقی علیہ السلام نے نرجس کو اسلام کے فرائض اور آداب سکھانے کے لیے ان کے سپرد کیا تھا۔
اہلِ بیت کی عالمہ خاتون
حکیمہ امام محمد تقی علیہ السلام کی بیٹیوں میں اپنے علم کے لیے معروف تھیں اور روایات نقل کرتی تھیں؛ شیخ مفید اسنادِ روایت میں انہیں امام حسن عسکری علیہ السلام کی پھوپھی کے طور پر ذکر کرتے ہیں۔ وہ سامرا میں امام علی نقی علیہ السلام اور امام حسن عسکری علیہ السلام کے روضے میں دفن ہیں۔
مختلف روایات
- شیخ مفید انہیں امام محمد تقی علیہ السلام کی اولاد میں شمار نہیں کرتے، اگرچہ دوسری جگہ ان کا حوالہ دیتے ہیں؛ ان کا سالِ وفات (بعض کتب میں ۲۷۴ھ) ثابت نہیں۔
حوالہ جات
- کمال الدین و تمام النعمۃ — شیخ صدوق (متوفی ۳۸۱ھ / ۹۹۱ء)
- کتاب الغیبۃ — شیخ طوسی (متوفی ۴۶۰ھ / ۱۰۶۷ء)
- کتاب الارشاد فی معرفۃ حجج اللہ علی العباد — شیخ مفید، محمد بن محمد بن النعمان (متوفی ۴۱۳ھ / ۱۰۲۲ء)۔ باب: امامِ دوازدہم