ادارتی حیثیت: مستند علماء کی نظرِ ثانی کا منتظر مسودہ۔ تصحیح کے لیے رابطہ صفحہ استعمال کریں۔
حضرت سکینہ، امام حسین علیہ السلام اور رباب کی بیٹی، کربلا میں اپنے والد کے ساتھ تھیں اور ان کے خاندان کی خواتین کے ساتھ اسیر ہوئیں۔ وہ اس کے بعد نصف صدی سے زیادہ مدینہ میں زندہ رہیں، اور اپنے والد کے کلام کی راوی اور ان پر اپنے مرثیوں کے لیے یاد کی جاتی ہیں۔
اپنے والد کی پیاری بیٹی
شیخ مفید سکینہ کو رباب کی بیٹی بتاتے ہیں، جو شیر خوار عبد اللہ کی بھی والدہ تھیں۔ ابن شہر آشوب امام حسین علیہ السلام کے وہ اشعار نقل کرتے ہیں جن میں آپ نے اس گھر سے اپنی محبت کا اظہار کیا جس میں سکینہ اور رباب رہتی تھیں۔
کربلا اور اسیری
روزِ عاشور ان کے والد نے انہیں الوداع کہا اور صبر کی تلقین کی۔ جنگ کے بعد انہیں دیگر خواتین اور بچوں کے ساتھ کوفہ اور پھر دمشق لے جایا گیا، اور وہ انہی کے ساتھ مدینہ واپس آئیں۔
بعد کی زندگی
اہلِ سنت کے ادبی مجموعے ان سے کئی نکاح اور شعرا کی محفلیں منسوب کرتے ہیں؛ شیعہ مورخین ان روایات کو رد کرتے ہیں، کمزور راویوں اور اسی نام کی ایک دوسری خاتون سے التباس کی طرف اشارہ کرتے ہیں، اور صرف ان کے چچا زاد عبد اللہ بن حسن سے نکاح کا ذکر کرتے ہیں۔ انہوں نے مدینہ میں وفات پائی، اکثر روایات کے مطابق ۱۱۷ھ میں۔
مختلف روایات
- ان کے بعد کے نکاحوں اور ادبی محفلوں کی روایات مختلف فیہ ہیں اور شیعہ مورخین انہیں رد کرتے ہیں۔
- مقامِ وفات و مدفن: اکثر روایات کے مطابق مدینہ؛ دمشق میں ان کے نام سے ایک قبر اور مصر میں ان کی تدفین کی ایک روایت بھی موجود ہے۔
حوالہ جات
- کتاب الارشاد فی معرفۃ حجج اللہ علی العباد — شیخ مفید، محمد بن محمد بن النعمان (متوفی ۴۱۳ھ / ۱۰۲۲ء)۔ باب: امام حسین
- مناقبِ آلِ ابی طالب — ابن شہر آشوب، محمد بن علی (متوفی ۵۸۸ھ / ۱۱۹۲ء)
- اللہوف علیٰ قتلی الطفوف — سید ابن طاؤس (متوفی ۶۶۴ھ / ۱۲۶۶ء)
- مقاتل الطالبیین — ابو الفرج اصفہانی، علی بن الحسین (متوفی ۳۵۶ھ / ۹۶۷ء)